بغیر تملیک زکوۃ کا پیسہ تنخواہ میں دینا
سوال
اگر مہتمم مدرسہ بغیر تملیک کے مدرسین کو تنخواہ دیتا ہے جب کہ مہتمم سے کہہ دیا گیا کہ بغیر تملیک کے زکوۃ کے مال کا صرف کرنا جائز نہیں، تو اس صورت میں مدرسین کے اوپر تو کوئی گناہ لازم نہیں آئے گا۔
جواب
اگر مدرسین کو معلوم ہے کہ یہ زکوۃ کا روپیہ تنخواہ میں دیا جا رہا ہے تو وہ لینے سے انکار کر دیں تاہم اگر لے لیں تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی اور مہتمم کے ذمہ ضمان لازم رہے گا
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔