زکوۃ کی فرضیت سے بچنے کے لئے حیلہ کرنا
سوال
ایک شخص کے پاس دس تولہ سونا ہے اور ہر رمضان کو زکوۃ ادا کرتا ہے، اب حیلہ یہ کرتا ہے کہ رمضان آنے سے پہلے دس تولہ سونا اپنی بی بی کو دیتا ہے، یعنی مالک بنا دیتا ہے، یا اپنے کسی رشتہ دار کو مالک بنا دیتا ہے، پھر اسی طرح بی بی صاحبہ دوسرے رمضان آنے سے پہلے پہلے اس سونے کا مالک شوہر کو بنا دیتی ہے، اب اس صورت میں شوہر اور بی بی کے ذمہ سے زکوۃ ساقط ہو گی یا نہیں؟ اگر ساقط ہوگئی تو شرعاً ایسا کرنا کیسا ہے؟
جواب
محض زکوۃ سے بچنے کے لئے ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ اگر چہ ایسا کرنے سے زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔