الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حيله عدم وجوب زکوة

سوال

کوئی شخص سال آنے پر اپنا مال اپنے لڑکے کو ہبہ کردے پھر جب دوسرا سال آنے لگے تو بیٹا باپ کو ہبہ کر دے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے اور کیا یہ بھی حیلہ بازی ہے؟

جواب

اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ زکوۃ فرض نہ ہو تو ایسا کرنا مکروہ ہے: واذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بأخرا واخرجه عن ملكه ثم ادخله فيه قال ابويوسف لا يكره لانه امتناع عن الوجوب لا ابطال حق الغير وفي المحيط انه الاصح وقال محمد يكره واختاره الشيخ حميد الدين الضرير لان فيه اضرارًا بالفقراء وابطال حقهم مالاً وكذا الخلاف في حيلة دفع الشفعة قبل وجوبها وقيل الفتوى في…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو