الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حیلہ تملیک

سوال

اگر اہل برادری زکوۃ کا روپیہ فقیر مدرسه و مکانات احاطہ مسجد میں صرف کرنا چاہتے ہیں اسکی صورت یہ تجویز کرتے ہیں کہ مہتمم مدرسہ جو صاحب قرض ہیں اور صاحب نصاب نہیں ہیں، زکوۃ کا پیسہ انکو دیدیا جائے اور وہ پھر اپنی طرف سے مواقع مذکورہ میں فی الحال یا جب ضرورت ہو صرف کر دیں، یا مہتمم صاحب اگر صاحب نصاب ہیں تو وہ اس پیسے کو کسی غیر صاحب نصاب کو دیدیں وہ پھر مہتمم صاحب کو دیدے پھر مہتمم صاحب اسکی طرف سے مذکورہ بالا مصرف میں صرف کر دے یا کوئی اور صورت جواز کی ہو کہ اسکے مطابق عمل کیا جاوے۔

جواب

اس طرح زکوۃ ادا ہو جائیگی: من عليه الزكوة لو اراد صرفها الى بناء المسجد والقنطرة لا يجوز فان اراد الحيلة فالحيلة ان يتصدق به المتولى على الفقراء ثم الفقراء يدفعونه الى المتولى ثم المتولى يصرف الى ذالك كذا في الذخيرة اهـ عالم گیری ص: ۴۷۳، ج : ۲ لیکن مہتمم یا کسی دوسرے مصرف کو مجبور کرنا اور اس پر دباؤ ڈالنا درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو