حیلہ تملیک متعین رقم غریب کو دینا درست نہیں
سوال
گذشتہ ۱۷ کو ہمارے ایم پی مرحوم نے معین الحق چودھری صاحب کو ہمارے یہاں بلوا کر ان سے دو پنکھے اور ایک گھڑی کی درخواست کرنے پر موصوف نے مذکورہ اشیاء کا تخمینا ایک ہزار روپے لگائے اور وہ روپے زکوۃ کے روپے سے دینے کا وعدہ فرمایا نیز یہ بھی فرمایا کہ زکوۃ کا روپیہ مسجد میں نہیں لگا سکتے، اس لئے کسی زکوۃ کھانے والے غریب کے نام کے لئے کہ اس کے نام پر ایک ہزار روپے ارسال کریں اور وہ روپیہ غریب کو دستیاب ہونے پر غریب ۲۵ روپے دے کر اس سے ۹۷۵/ روپے لے کر مسجد میں لگائیں چنانچہ اس مشورہ کے تحت ایک غریب آدمی کا نام ان کو دیا…
جواب
پانچ سو روپے تو ڈاک خانہ میں جمع رہے ان کی تو تملیک بھی نہیں ہوئی ان پر اس غریب کی ملک ثابت نہیں ہوئی، لہذا ان کو مسجد کے پنکھوں کے لئے استعمال کرنا بالکل نا جائز ہے، بقیہ پانچ سو روپے غریب کو دیئے گئے مگر اس شرط کیساتھ کہ وہ ۲۵ روپے رکھ کر ۴۷۵ /روپئے مسجد میں دیدے اس زورود باؤ سے اس نے دے دیئے تو یہ تملیک بھی برائے نام ہوئی واقعی تملیک اس وقت ہوتی جب اس غریب کو پوراختیار رہتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔