الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ وعشر وغیرہ مدرسہ میں دینا

سوال

ایک اسلامیہ اسکول ہے جس کے اندر زکوۃ کے مد کی تمام رقوم وصول کی جاتی ہیں، مثلاً چرم قربانی، عشر وغیرہ اور مدرسہ کے مدرسین کی تنخواہ اور مدرسہ کی دوسری ضروریات بھی اسی سے پوری کی جاتی ہیں، اور اس کے لئے دوسرے ذرائع بھی ہیں، مثلاً بورڈ کی امداد، مدرسہ کا چک وغیرہ اس مدرسہ کی نوعیت یہ ہے کہ اسلامی و غیر اسلامی تہوار کی چھٹیاں اور انگریزی حیثیت کی تعطیلات با قاعدہ ہوتی ہیں، اور ہند و طلباء بھی اس کے اندر تعلیم پاتے ہیں، لہذا کونسی ترکیب ہے کہ چرم قربانی وغیرہ دینا اس کے اندر جائز ہوگا، اور ان کے لئے کوئی شرط ہے یا…

جواب

عبارت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ زکوۃ و عشر کا کل مال مدرسین کی تنخواہ اور مدرسہ کی عمارت میں صرف نہیں کر سکتے، ہاں طلبہ مسلمان عاقل بالغ نادار کو دے سکتے ہیں، اور یہ لوگ چاہیں اپنے مصرف میں لائیں، یا دوسرے کار خیر میں صرف کریں، اور چرم قربانی کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ جب تک قربانی کرنے والا چمڑے فروخت نہ کر دے، ہر شخص کو ہبہ کر سکتا ہے، خواہ جس کی ملک کرے غریب ہو یا صاحب نصاب ہو،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو