الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اسکول میں زکوۃ وصدقہ فطر

سوال

(۱) یہاں ایک اردو اسکول مسلمانوں کی طرف سے جاری ہے جسکے اجراء کے وقت دینیات اور کلام مجید کی تعلیم کے لئے مسلمانوں کو اطمینان دیدیا گیا مگر عملاً دینیات اور کلام مجید کی تعلیم نفی کے برابر ہے، اور اردو و انگریزی کی تعلیم گورنمنٹ نصاب کے مطابق دی جاتی ہے، اس اسکول میں غرباء اور یتیم بچوں کے قیام اور نان نفقہ کا کوئی انتظام نہیں ہے، اور مقامی بیوگان اور یتامی ضرورت سے زیادہ حاجت مند ہیں، ایسی حالت میں فطرہ، صدقہ، زکوۃ خیرات، چرم قربانی وغیرہ اس اسکول میں دیا جانا جائز ہے، یا نہیں، جب کہ اس اسکول کے لئے کافی ذرائع…

جواب

(۱) اگر ان یتیم اور غریب مستحق بچوں کو زکوۃ، صدقہ فطر چرم قربانی کی قیمت دیجائے تو شرعاً درست ہے لیکن مدرسین کی تنخواہ یا مدرسہ کی تعمیر یا مدرسہ کی کسی اور ضرورت میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے جبکہ اسکول کا خرچ دوسرے طریقہ سے ملتا ہے، اور یتیم بچوں کیلئے قیام اور نان نفقہ کا کوئی انتظام نہیں تو پھر اسکول والے اس زکوۃ وغیرہ کو کس جگہ پر صرف کرتے ہیں بظاہر صحیح مصرف میں نہ صرف کرتے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو