کیا مہتمم مدرسہ کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
سوال
گذارش ہے کہ احقر کو ایک مسئلہ درپیش ہے، اور چونکہ اس میں زید (عالم) کی طرف سے چند کتابوں کے حوالے دیئے گئے ہیں، اس لئے احقر آپ سے تحقیق کی غرض سے ملتمس ہے کہ آیا زید نے جو عبارات تحریر کی ہیں وہ مفتی بہا اور معمول بہا ہیں، یا نہیں؟ در صورت ثانیہ وجہ متروکیت ذکر فرما کر عنایت فرمادیں، اولاً مسئلہ مبتلی بہا ذکر کرتا ہوں بعد ازیں زید کی پیش کردہ عبارات درج کروں گا۔
جواب
مدرسہ کا مہتمم وکیل ہوتا ہے، طلبہ (فقراء) کی طرف سے کہ ارباب اموال سے زکوۃ وصول کر کے طلبہ پر صرف کرے، اس صورت میں بلا شبہ مختلف ارباب اموال کی زکوۃ کو خلط کرنا مہتمم کیلئے درست ہے، درمختار کی جو عبارت سوال میں نقل کی گئی ہے، اسکے متصل ہی ایک استفتاء بھی مذکور ہے، اگر اسپر غور کیا جائے تو ارباب اموال کی طرف سے اذن کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔