ايضاً
سوال
ایک صاحب نے ۱۳۵ روپیہ زکوۃ کا دیا ہے وہ غازی آباد کے ہیں انہوں نے اس لئے بھیجوایا ہے کہ چونکہ مولوی صاحب کے تنخواہ کو لوگ دیتے نہیں ہیں، لہذا اس سے کام چلا ؤ تو کیا اس روپیہ کو میں تنخواہ میں لے سکتا ہوں یا اس روپے کو لگا کر مکتب بنادوں جو بھی صورت ہے، بہت ہی جلد جواب مرحمت فرما دیں۔ فقط
جواب
زکوۃ کے روپیہ کو براہ راست (بغیر تملیک) تنخواہ یا تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں مستحق زکوۃ بچوں کو بطور وظیفہ دیدیا کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔