مستطيع طلبہ کے لئے زکوۃ
سوال
طلباء میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو نصاب شرعی کے مالک ہیں، جن پر صدقہ الفطر و قربانی واجب ہوتی ہے، اور سوال کرنا حرام ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود طلبہ اپنا خرچ نہیں اٹھا سکتے، اس وجہ سے دارالعلوم سے امداد لیتے ہیں، بعض دورانِ تعلیم مقروض ہو جاتے ہیں، لوگ صراحة زکوۃ کی رقم دیتے ہیں، وہ لے کر اپنا قرض ادا کرتے ہیں، کیا ایسے طلباء امداد لے سکتے ہیں، اور زکوۃ وصدقات واجبہ لے کر اپنی ضروریات قرض وغیرہ میں کام لا سکتے ہیں اور دینے والوں کی زکوۃ وصدقات ادا ہو جاتے ہیں، اور اگر ادا نہیں ہوتے تو ان طلبہ کی تکمیل تعلیم کی کیا…
جواب
جو طلبہ اپنے وطن میں صاحب نصاب ہیں، اور یہاں نہیں اور اپنے وطن سے منگا بھی نہیں سکتے وہ زکوة، قیمت چرم قربانی، صدقۃ الفطر کے مصرف ہیں، انکو یہ چیزیں اگر دی جائیں اور یقیناً دی جاتی ہیں تو واجب ادا ہو جاتا ہے داخلہ کے وقت انکے ساتھ اگر چہ ایک دن کھانے کی مقدار موجود ہو اور اس دن کیلئے ان کیلئے سوال کرنا نا جائز ہو لیکن وہ صرف اس دن کیلئے سوال نہیں کرتے نہ انکا سوال اس دن پورا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔