الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پھوپھی زاد بہن کو زکوة

سوال

اگر زید نے اپنے پھوپھا اور پھوپھی کے انتقال ہو جانے کے بعد اپنی پھوپھی زاد بہن کو بطور پرورش اپنے مکان پر رکھ لیا ہو اور زید اپنی نابالغ بہن کو زکوۃ کا روپیہ دینا چاہے تو بدیں صورت صحیح معنی میں ادائیگی ہو جائے یا نہیں؟ (۲) سوتیلی ماں کی طرف سے لڑکی کے حصہ کا روپیہ مل جانے کے بعد نابالغی یا بالغی ہر دو حالت میں لڑکی مذکور زکوۃ کی مستحق ہو سکتی ہے یا نہیں۔ فقط السلام ۱۹ جنوری ۳۸ھ

جواب

(۲،۱) اگر وہ مصرف زکوۃ ہے یعنی اس کی ملک بقدر نصاب نہیں تو اس کو زکوۃ دینا درست ہے، اور اس کو دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی، اور اگر وہ مصرف زکوۃ نہیں یعنی اس کی ملک بقدر نصاب ہے جو کہ حاجت اصلیہ سے زائد ہے تو زکوۃ دینا درست نہیں اس مسئلہ میں بالغ ونا بالغ سب کا ایک حکم ہے، نابالغ کا باپ اگر زندہ ہو اور وہ صاحب نصاب ہو تو ایسے نابالغ کو بھی زکوۃ دینا درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو