الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

والد اور سوتیلی والدہ کو زکوة

سوال

ایک صاحب نصاب ہے وہ اپنے والدین سے علیحدہ رہتا ہے، والد اس کے ضعیف ہیں اور روزگار کچھ نہیں ہے، والد صاحب کے دوسری بیوی کے ۷/۶/ بچے ہیں جن میں صرف ایک بالغ ہے، وہ بھی جاہل اور بے روز گار ہے ذریعہ آمدنی کچھ نہیں، کیا ایسی صورت میں بیٹا والدین کو یعنی والد اور سوتیلی ماں کو جو کہ سادات سے نہیں، اگر چہ والد سید ہیں زکوۃ لے سکتا ہے، زکوۃ کے علاوہ جو پیسہ بعد خیرات اپنی کمائی میں سے نکالتا ہے وہ بھی دے سکتا ہے، یا نہیں؟

جواب

باپ کو زکوۃ دینا تو کسی حال میں درست نہیں سوتیلی ماں کو زکوۃ دینا جبکہ وہ مصرف زکوۃ ہو، یعنی صاحب نصاب اور سید نہ ہو درست ہے خیرات غیر واجبہ دونوں کو دینا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو