مقروض كو زكوة
سوال
(۱) جو کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، مثلاً کوئی تین ہزار کوئی پانچ ہزار کا قرض دار ہے، اب ایسے کسانوں کو زکوۃ کا مالک بنا دیا جائے اور فوراً اسی جگہ قبضہ کر کے سوسائٹی میں قرض کے عوض جمع کرا دیں تو ایسا کرنے سے صاحب زکوۃ کی زکوۃ ادا ہو گی یا نہیں جب کہ کاشتکار قبضہ کر کے اپنے ہی ہاتھ سے جمع کرائے گا۔ (۲) ایک قرض دار کو ایک دو تین نصاب کی مقدار مال دیا گیا مثلاً ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت چھ سو روپے اور چھتیس سو روپے کے قرض دار کو چاندی کے چھ نصاب کی مقدار مال دیا گیا تو آیا یہ جائز ہے؟ (۳)
جواب
(۱) مدیون کو اتنی زکوۃ دینا درست ہے، کہ وہ اس کے ذریعہ دین ادا کر دے پھر بقدر نصاب اس کے پاس باقی نہ رہے اس طرح زکوۃ ادا ہو جائے گی، مصرف زکوۃ اس پر مالکانہ قبضہ کر کے اپنا دین ادا کر دے اور سبکدوش ہو جائے۔ (۲) یہ بھی درست ہے۔ (۳) ان کے حوائج اصلیہ دین وغیرہ سے فاضل اگر مقدار نصاب ان کی ملک میں نہیں تو وہ مستحق زکوۃ ہیں
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔