مالک اراضی کے لئے زکوۃ
سوال
ایک شخص جو نصاب زکوۃ کا مالک نہیں مقروض ہے، لیکن اراضی اور مال نامی از قسم جانوراں رکھتا ہے، لیکن وہ جانور نصاب کے برابر نہیں البتہ ان کی قیمت نصاب چاندی کے برابر ہے، اسی طرح اراضی زرعی کی پیداوار فصلی بھی اس کو مکتفی نہیں لیکن اس اراضی کی اگر قیمت کی جائے تو نصاب چاندی سے کئی گنا زیادہ ہے، کیا وہ شخص زکوۃ یا صدقۂ فطر یا چرم قربانی لے سکتا ہے، یا نہیں؟
جواب
ان دونوں شخصوں کو صدقہ فطر اور چرم قربانی کی قیمت لینا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔