الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ وفطرہ تعمیر مسجد وغیرہ میں صرف کرنا

سوال

ایک موضع میں قریب بارہ برس سے ایک مسجد تیار ہے مگر اسکی چہار دیواری اور دروازہ وغیرہ تیار نہ ہو سکا، علاوہ اس کے اب مسجد ہی منہدم ہو چکی ہے اور وہاں کے مسلمانوں کی مالی حالت نہایت نازک ہے جس کی وجہ سے وہ مسجد اب تک اسی حالت میں ہے مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی ہمت پست ہو گئی ہے، اب رہا یہ کہ ان لوگوں کا مصمم ارادہ ہے کہ جو رقم مثلاً فطرہ و قربانی و زکوۃ وغیرہ کی رقم ہو اس کو وہ مسجد میں لگانا چاہتے ہیں اور اس رقم سے مسجد کی مرمت، چہار دیواری اور دروازہ وغیرہ تیار کرانا چاہتے ہیں، اور مفصل کیفیت سے مطلع…

جواب

رقوم مذکورہ کا تصدق واجب ہے، یعنی کسی غریب کو جو کہ سید نہ ہو مالک بنادینا ضروری ہے، بغیر مالک بنائے مسجد یا عید گاہ یا برادری کیلئے فرش وغیرہ میں صرف کرنا جائز ہے اگر کسی غریب کو بطور تملیک دیدی جائے اور وہ اپنے قبضہ کے بعد خود مواقع مذکورہ کے لئے دیدے تو پھر مواقع مذکورہ میں صرف کرنا درست ہے: وكذا من عليه الزكوة لو اراد صرفها إلى بناء المسجد او القنطرة لا يجوز فان اراد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو