الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ میں موجودہ نرخ کا اعتبار

سوال

ایک کتب فروش نے مثلاً دس ہزار کتابیں فی سیکڑہ دس روپے کے حساب سے ایک ہزار روپے میں طبع کرائیں یا خریدیں، اب اس نے فی سیکڑہ چار روپے نفع لینا طے کر کے اس کو فروخت کرنا شروع کیا، سال بھر میں پانچ ہزار کتابیں (جن کی اصل قیمت پانچ سو روپے ہے) فروخت ہوئیں جن پر چار روپے سیکڑہ کے حساب سے دوسو روپے نفع ملا اور پانچ ہزار کتابوں کا اسٹاک اس کے پاس موجود ہے، اختتام سال پر زکوۃ کی ادائیگی کے سلسلہ میں فروخت شدہ پانچ ہزار کتابوں کی اصل قیمت خرید جو پانچ سوروپے ہے، اس کے ساتھ نفع کی رقم دو سو روپے بھی شامل کر کے کل سات سو روپے…

جواب

سال ختم ہونے پر بازاری نرخ سے (نہ کہ اصل خرید کے اعتبار سے) جتنی قیمت کا مال موجود ہو اس کی زکوۃ ادا کی جائے گی، بہتر یہ ہے کہ اسی نرخ کے اعتبار سے زکوۃ میں چالیسواں حصہ کتابیں ہی دیدے۔ تا کہ اصل مال اور زکوۃ کا نرخ کی وجہ سے تناسب قائم رہے۔ وهذا ظاهر لا يخفى.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو