کرایہ کے مکانات پر زکوۃ
سوال
ہماری اپنی رہائش اور پریس کے مصرف میں جو مکان ہے اس کے علاوہ جو مکانات ہیں اسکا کرایہ درج آمدنی ہو جاتا ہے، اور تقریباً اسکے قریب قریب دوسرے دکانوں کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے، جو پریس کی ضروریات کیلئے کرایہ پر لینے پڑتے ہیں، نیز یہ کہ مکانات سال بھر کرایہ پر چڑھتے نہیں رہتے بلکہ کبھی چڑھ گئے اور کبھی خالی بھی رہتا ہے، سال بھر تک چڑھا رہے، بہر حال متعین نہیں ایسی صورت میں زکوۃ کی کیا صورت ہوگی۔
جواب
ان مکانوں پر زکوۃ واجب نہیں۔ ان کی آمدنی کا روپیہ اگر مقدار نصاب کو پہنچ کر اس پر سال بھر گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہو گی بشرطیکہ وہ حوائج اصلیہ سے فارغ ہوں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔