مال تجارت کی زکوۃ تدریجاً پیشگی ادا کرنا
سوال
زید نے تجارت کی غرض سے یکم ذی الحجہ ۱۳۸۷ ھ کو دو ہزار قلم بنوائے جن کی مجموعی قیمت چار ہزار روپے ہوتی ہے، اب ظاہر ہے کہ زید صاحب نصاب ہے اور یکم ذی الحجہ ۱۳۸۸ ھ کو اس مال پر زکوۃ واجب ہو جائے گی جس کا ادا کرنا ضروری ہوگا، مگر زید یہ چاہتا ہے کہ وہ زکوۃ کی تدریجی طور پر ابھی سے ادائیگی شروع کر دے اور صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کر بھی سکتا ہے، اس لئے اس نے ۴ رذی الحجہ ۱۳۸۷ ھ سے ہی مختلف مقامات پر ضرورت مند طلباء کو زکوۃ کی نیت سے ایک ایک دو دو قلم بھیجنا شروع کر دیئے اور یہ ارادہ کر لیا کہ آخر سال میں رأس…
جواب
اس طرح قلم دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اس شائبہ سے ادائے زکوۃ میں نقصان نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔