مال مضاربت میں زکوۃ کا حکم
سوال
زید نے بکر کو تجارت کے لئے روپیہ دیا کہ روپیہ زید کا اور محنت بکر کی اور نفع نصف نصف، اب اس روپیہ کی زکوۃ زید کو دینا چاہئے یا دونوں کو نصف نصف، دوسرے کی طرف سے بغیر اس کی اطلاع کے زکوۃ دیدیوے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی، یا نہیں؟
جواب
اصل روپیہ زید کا ہے، اس کی زکوۃ بھی زید کے ذمہ ہے، بکر کے ذمہ نہیں، اگر زید کی اجازت سے بکر اصل روپیہ کی زکوۃ ادا کر دیگا تو ادا ہو جائیگی، بغیر اجازت کے ادا نہیں ہوگی، اور ضمان بکر کے ذمہ لازم ہوگا، نفع میں بکر بھی نصف کا شریک ہے وہ اپنے حصہ نفع کی زکوۃ دیگا۔ اور زید کی اجازت سے زید کے حصہ نفع کی زکوۃ دینا بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔