الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تجارت کیلئے کتاب چھپوائی زکوۃ کس قیمت سے ادا کرے؟

سوال

مال تجارت کی قیمت زکوۃ کے لئے کس حساب سے لگائی جائے گی، آیا اصل، مصارف پر یا مع منافع؟ مثلاً زید نے تجارت کے لئے ایک کتاب کے دو ہزار نسخے چھپوائے ہر نسخہ پر اصل مصارف بغیر منافع کے ایک روپیہ آیا، یعنی کل مال کی اصل قیمت دو ہزار روپے ہوئی، مگر زید نے اس کتاب پر بازار کے لئے تین روپیہ قیمت مقرر کی اور خود اس کو دوسرے تاجروں کو دو روپے فی کتاب کے حساب سے فروخت کرنا شروع کیا، اپنے کاروبار کے لئے زید نے ملازم بھی رکھے، دوکان وغیرہ کا کرایہ بھی دیا، جب سال پورا ہوا تو اس کے پاس اسی کتاب کے آٹھ سو نسخے باقی تھے، نقد کچھ…

جواب

سال بھر گزرنے پر زید کے پاس تجارتی کتاب کے آٹھ سو نسخے ہیں، اسکے علاوہ ایسا کوئی مال نقد و غیرہ نہیں جس میں زکوۃ واجب ہو تو اب زکوۃ کتاب کے موجودہ نسخوں ہی میں واجب ہوگی نہ کہ کل مال میں جسکو صرف کر کے کتاب چھپوائی، نہ خرچ کردہ تنخواہ وغیرہ میں، نہ فروخت شدہ و خرچ شدہ قیمت میں، لہذا آسان صورت یہ ہیکہ بیس نسخے زکوۃ میں ادا کرے، پھر مصرف زکوٰۃ ان نسخوں کو چالیس روپے میں فروخت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو