الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مضاربت میں زکوۃ

سوال

ایک تجارت ہے، جس کے اندر تین شریک ہیں، اس طریقہ سے کہ رقم ایک آدمی اور باقی کی صرف محنت ہے، اور نفع برابر برابر مثلاً تین ہزار کا سالانہ نفع ہوا اور اصل رقم چالیس ہزار تھی باقی شرکاء کا نفع زکوۃ ایک ایک ہزار کا نکالیں گے، اب جس کی اصل رقم ہے وہ اکتالیس ہزار کی نکالے گا یا ایک ہزار کی صرف نفع ہی کی زکوۃ نکالے گا، تو باقی شرکاء نفع میں رہے، اور اس کا گھر سے بھی گیا۔

جواب

یہ مضاربت کی صورت ہے، زکوۃ اصل مال اور نفع کے مجموعہ پر واجب ہوتی ہے۔ جس شخص کا راس المال چالیس ہزار ہے، اور ایک ہزار اسکا نفع ہوا تو اکتالیس ہزار کی زکوۃ اسکے ذمہ لازم ہے، دوسرے دو شر کاء مضارب کی ملک میں اگر اس نفع کے علاوہ کچھ نہیں تو جب سے مقدار نصاب کے مالک ہوئے اسوقت سے سال بھر پورا ہو جانیکے بعد ان کے ذمہ اس کی زکوۃ واجب ہو گئی ہے رہا یہ سوال کہ تجارت کا نفع کیا ہوا تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو