سامان تجارت پر زکوۃ
سوال
ہمارا اپنا پریس ہے، اپنی کتابیں بھی چھاپتے ہیں، اور دوسروں کے کام بھی اُجرت لیکر کرتے ہیں، کتابوں کی فروخت اور چھپائی کے بل وصول ہوتے ہیں تو روپیہ آجاتا ہے، کاغذ وغیرہ ہم خود خریدتے ہیں، اور اسکا ذخیرہ ہمارے پاس رہتا ہے مگر اس میں سے وہی بچتا ہے جو چھپائی سے رہ جائے کتب خانہ میں کتابوں کا ذخیرہ رہتا ہے، مذکورہ بالا روپیہ کچھ تعمیری کاموں میں صرف ہو جاتا ہے، اور کچھ ذاتی اخراجات ہیں، جس قدر مال بیچ رہتا ہے، اس کی مقدار اس قرض سے بہت کم ہوتی ہے، جو کاغذ وغیرہ کا لوگوں کا بھی ہمارے ذمہ ہے انکم ٹیکس والے کل آمد وخرج…
جواب
آپ نے تحریر کیا ہے کہ جس قدر مال بیچ رہتا ہے، اس کی مقدار اس قرض سے بہت کم ہے، جو کاغذ وغیرہ کا لوگوں کا ہمارے ذمہ ہے، اس مال سے مراد روپیہ ہے، یا کل سامانِ تجارت اگر روپیہ مراد ہے، تو اس روپیہ کے ساتھ کل سامانِ تجارت کو ملا کر دیکھئے کہ یہ مجموعہ قرض کے مجموعہ سے زیادہ ہے، یا برابر یا کم ہے، اگر برابر یا کم ہو تب تو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے، اگر زیادہ ہو اور مقدار نصاب زیادہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔