مال تجارت میں زکوۃ
سوال
میں نے صرف پچاس روپیہ کے سرمایہ سے کتب خانہ شروع کیا، جوں جوں فروختگی ہوتی رہی یوں یوں دینی، درسی، تبلیغی کتابیں اردو، ہندی، عربی، فارسی و گجراتی ۱۰۰ ار روپے کی ادھار خریدتے گیا، فروختگی پر کتابیں منگواتا رہتا ہوں، پانچ پچیس کا مال، کبھی قرآن شریف ہے، تو کبھی کتابیں، اسی طرح درسی کتب سال دو سال جمع رہتی ہیں، فی الحال جملہ مال دو ہزار روپے تک کا جمع ہو جاتا ہے اور ماہ دو ماہ میں ختم ہو جاتا ہے، پھر تھوڑا تھوڑا مال تیس پچاس کا طلب کرتا رہتا ہوں تو اس ہیئت میں زکوۃ نکالنی ہوگی۔
جواب
جس وقت آپ کا سرمایہ (نقد کتابیں زیور) بقدر نصاب (۵۲،۵ تولہ چاندی کی قیمت کا) ہو گیا، اس وقت سے سال بھر گزرنے پر آپکے ذمہ اسکی زکوۃ لازم ہوگئی بشرطیکہ ختم سال پر نصاب سے کم نہ رہ جائے، درمیان میں کم ہو کر پھر پورا ہو جائے تو زکوۃ ساقط نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔