دین قوی اور دین ضعیف
سوال
ہمارے یہاں نیپالی لوگ آتے ہیں اور مال لے جاتے ہیں قیمت کبھی کبھار تو آٹھ دس سال تک دیتے ہیں یہ مسئلہ معلوم ہے کہ سوداگری کے مال کی قیمت قرض قوی کی صورت ہے، جیسا کہ بہشتی زیور میں لکھا ہے اور اس کا حکم بھی یہی ہے، کہ جب وہ روپے وصول ہو جائیں تو سب برسوں کی زکوٰۃ دینا ہوگی، حساب سے۔ لیکن ہمارے یہاں صورت یہ ہے کہ نیپالی لوگ دوسری حکومت کے رہنے والے ہیں، جن پر نہ ہم دعویٰ کر سکتے ہیں نہ کوئی کچہری عدالت کر سکتے ہیں اور وہ لوگ دس دس بارہ بارہ چودہ چودہ دن کا سفر کر کے آتے ہیں اسلئے ہم خود وہاں جا کر وصول نہیں کر سکتے،…
جواب
یہ دین اس صورت میں بھی دین قوی ہے، اسکے وصول ہونے کا آپکو پورا اطمینان ہے (اگر چہ دیر میں ہو) ورنہ آپ ان لوگوں کے ہاتھ اپنا مال فروخت نہ کرتے اس لئے اس کا حکم وہی ہے جو دین قوی کا ہوتا ہے۔ (صفحہ گذشتہ کا بقیہ حاشیہ شامی کراچی :ص: ۳۰۵، ج: ۲، قبیل مطلب في وجوب الزكاة في دين المرصد،
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔