چاندی پر سونے کا پانی پھیرنے اور پترا چڑھانے سے اس کی زکوۃ کا حکم
سوال
ملمع شدہ چیزوں کی زکوۃ کس طرح دی جائے، مثلاً ایک زیور بنوایا نیچے چاندی او پر سونے کا پانی یا پترا چڑھوایا، آیا چاندی کے ساتھ ملا کر زکوۃ دیں گے یا سونے کے ساتھ؟
جواب
چاندی کا زیور بنوا کر اس پر سونے کا پانی پھیرنے سے وہ زیور سونے کا نہیں ہو گیا، وہ پانی اس سے جدا نہیں ہو سکتا، تو وہ کالعدم ہے، چاندی ہی کی زکوۃ لازم ہوگی اگر سونے کے پترے چڑھوا دیئے ہیں جو کہ جدا ہو سکتے ہیں تو ان پتروں کی زکوۃ سونے کے حساب سے ہوگی سنار یا صراف سے وزن کرا لیا جائے وہ بتا دے گا، کہ سونا کس قدر ہے، اور چاندی کس قدر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔