الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا عورت کے دین مہر پر زکوۃ لازم ہے؟

سوال

مہر گو مانع زکوۃ نہیں تو زوجہ کے ذمہ اس مہر کی زکوۃ لازم ہوگی، یا کہ نہیں؟ دین کی زکوۃ دین دینے والے پر ہوتی ہے، یہ حکم یہاں اس صورت میں لگے گا یا کہ نہیں؟ جب کہ دین مہر کو زوج نے دین مستغرق نصاب قرار دیا ہے، مسائل مذکورہ میں الجھن کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دیار میں دین مہر کو مانع زکوۃ نہیں کرتے ہیں، اس لئے زوجہ کے ذمہ مہر کی زکوۃ قبل قبض نہیں سمجھتے ہیں اصول الشاشی میں ہے: وفرع محمد على هذا فقال اذا تزوج امرأة على نصاب وله نصاب من الغنم ونصاب من الدراهم يصرف الدين الى الدراهم حتى لو حال عليها الحول تجب الزكوة عنده…

جواب

شوہر کے ذمہ یہ دین مانع ہو یا نہ ہو بہر صورت زوجہ پر اس کی زکوۃ لازم نہیں، وجوب زکوۃ کے لئے ملک لازم ہے، اور دین مہر پر ابھی ملک ہی زوجہ کی محقق نہیں ہوئی ہے، جب وصول ہو کر اس کی ملک ثابت ہو جائے گی اور اس پر سال بھر گذر جائے گا تب زوجہ کے ذمہ زکوۃ لازم ہوگی، محض نکاح ہو جانے سے مہر پر ملک زوجہ ثابت نہیں ہو جاتی ہے صرف استحقاق ثابت ہوتا ہے وہ ابھی معرض زوال میں رہتا ہے، مثلاً…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو