قبرستان کی آمدنی مدرسہ وعید گاہ میں خرچ کرنا
سوال
قبرستان کی رقم مدرسہ میں لگائی جاسکتی ہے، یا نہیں؟ اور اگر لگائی جاسکتی ہے تو کون کون سے کام میں؟ خصوصاً مدرسہ کے مکان یا مدرسین کی تنخواہوں میں لگایا جا سکتا ہے، یا نہیں؟ ۲- کیا قبرستان کی آمدنی سے عید گاہ بنا سکتے ہیں؟ نیز قبرستان کی آمدنی کسی مصرف میں آسکتی ہے؟
جواب
۲،۱ - موقوفہ قبرستان کی آمدنی کو کسی اور کام (مدرسہ وعید گاہ) میں صرف کرنا درست نہیں : لان شرط الواقف كنص الشارع. (كذا في رد المحتار) ہاں اگر قبرستان میں کوئی ضرورت نہ ہو مثلاً حفاظت کے لئے چہار دیواری کی ضرورت نہ ہو، آدمی رکھنے کی ضرورت نہ ہو، وغیرہ وغیرہ تو پھر باہمی مشورہ سے مدرسہ وعید گاہ میں جہاں ضرورت ہو تعمیر، تنخواہ، وظیفہ، خرید کتب وغیرہ میں صرف کر سکتے ہیں تا کہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔