الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قدیم قبرستان میں بنی ہوئی مسجد بھی شرعی مسجد ہے

سوال

ایک مسجد احاطہ قبرستان میں عرصہ گیارہ سال سے بنی ہوئی ہے، اور اس مسجد میں برابر نماز جمعہ اور نماز پنجگانہ ہوتی ہے، تمام اہل محلہ اس میں نماز پڑھتے رہتے ہیں، بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ مسجد قبروں پر بنی ہوئی ہے، اور لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے ہیں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس احاطہ میں قبروں کے نشانات موجود تھے، اور دیکھنے والوں کو بخوبی یاد ہے، مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ نشانات کہاں کہاں تھے، تمام نشانات عرصہ دراز سے موجود تھے، مگر اب عرصہ گیارہ سال سے یہ نشانات مسجد میں شامل ہو چکے ہیں، اس لئے بعض افراد کو نماز…

جواب

جو جگہ مردے دفن کرنے کے لئے وقف کی جائے، وہاں مسجد بنانا منشاء واقف کے خلاف ہے، اس لئے منع ہے، ایسی جگہ نماز پڑھنا منع ہے جہاں سامنے قبریں ہوں لیکن اگر قبرستان پرانا ہو جائے کہ اب وہاں مردے دفن نہیں ہوتے اور پرانی قبریں وہاں موجود ہیں، مگر زمانہ دراز گزر نے کی وجہ سے اب ان میں میت موجود نہیں، بلکہ مٹی بن چکی ہے، تو حسب ضرورت وہاں مسجد بنانا شرعاً درست ہے، قبر میں جب میت مٹی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو