الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان کی آمدنی سے مساجد کی مرمت

سوال

ہمارے قصبہ میں قبرستان پرانے بہت ہیں اور حکومت نے بھی ان سے ملحقہ قبرستان کے لئے مزید اراضی دیدی ہے، اگر اس میں کاشت کراکر اس کی پیدا وار بوسیدہ جامع مسجد یا دیگر امور خیر میں خرچ کر دیں تو درست ہے یا نہیں؟ اگر مساجد وغیرہ کی مرمت نہ کی گئی تو ان کے گرنے اور خراب ہونے کا اندیشہ ہے، اکثریت مسلمانوں کی یہاں سے چلی گئی، بہت معمولی تعداد میں باقی رہ گئے ہیں جو اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تو کیا قبرستان کی پیداوار سے مرمت ہو سکتی ہے اور مساجد محفوظ ہو سکتی ہے؟

جواب

قبرستان کے لئے وقف شدہ زمین قبرستان ہی کے کام میں استعمال کی جائے اگر وہاں کے قبرستان میں ضرورت نہیں اور ان کی ضرورت کے لئے کافی جگہ موجود ہے اور اس زمین کے خالی رہنے سے اندیشہ ہے کہ دوسرے لوگ اس پر غاصبانہ قبضہ کر لیں گے اور اس قبضہ کو ختم کرانا دشوار ہو جائے گا، جس سے اصل وقف ہی ضائع ہو جائے گا، تو مجبوراً اس میں کاشت کر کے اس کی آمدنی سے مساجد کی مرمت کرنا درست ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو