الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان کی زمین میں مدرسہ

سوال

- قدیم قبرستان جہاں قبروں کے نشانات چند جگہ پر موجود ہیں اور ایک حصہ میں تدفین بھی جاری ہے، لیکن اہل ہنود اس قبرستان میں شراب وغیرہ کی دوکانیں و دیگر قسم کی شی کے ذریعہ قابض ہوتے چلے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ جگہ بھی محفوظ ہو جائے گی اور قبضہ بھی ہٹ جائے گا، مدرسہ کی تعمیر کروائی جائے، جس میں بچہ بچیاں دینی ماحول سے آشنا ہوتے رہیں، جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ نیچے دوکانیں اور اوپر مدرسہ تا کہ مدرسہ اپنے ہی پیروں پر کھڑا ہو جائے، ان مسلمانوں کی تمنا کے بارے میں شرعی حکم مطلوب ہے، نیز یہ قبرستان حدود…

جواب

جب کہ وہ قبرستان حدود میونسپلٹی میں ہے، تو اس میں دفن کرنا قانوناً بھی ممنوع ہوگا، اور جو قبریں وہاں ہیں، وہ اتنی پرانی ہیں، کہ ان میں اب میت باقی نہیں مٹی بن چکی ہے، ایسی حالت میں وہاں دینی مدرسہ باہمی مشورہ سے قائم کر لینا درست ہے، اور مدرسہ کے مصارف کے لئے اگر نیچے دوکانیں بنادی جائیں اوپر مدرسہ تو بھی درست ہے، نہ یہ زمین کسی کی ملک ہوگی نہ دوکانیں اور مدرسہ کسی کی ملک نہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو