الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان میں مدرسہ بنانا

سوال

ایک گاؤں کڑ کنڈلہ ہے، اس کی مسلم آبادی دوسو ہے، دو قبرستان ہیں، جو تقریباً پچاس سال کی مدت کے لئے کافی ہو سکتے ہیں، اس گاؤں کے قبرستان میں ایک مسجد تعمیر ہو رہی ہے، جس میں چالیس سال سے نماز پڑھی جارہی ہے، مسجد کے متصل دوسو پچاس مربع گز زمین خالی ہے، اب اس زمین پر پختہ عمارت مدرسہ کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ جگہ آبادی کی تمام مسلمانوں کے مکانات سے قریب تر ہے، تو اس جگہ مدرسہ بنانا کیسا ہے؟

جواب

اگر وہ قبرستان مملوک ہے تو مالک کی اجازت سے دینی مدرسہ کی تعلیم درست ہے اگر قبرستان وقف ہے، تو منشاء واقف ہی میں اس کو استعمال کیا جائے لیکن اگر وقف ہونے کے باوجود وہ جگہ ضرورت سے زائد ہے اور بیکار رہنے سے اندیشہ ہے کہ کوئی اس پر غلط تصرف کرے جس سے وقف ہی ضائع ہو جائے تو دینی مدرسہ کی تعمیر کرنا بھی درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو