الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کمیشن پر سفیر رکھنا

سوال

ایک دینی عربی مدرسہ ہے جس میں قرآن کریم، حدیث شریف، تفسیر، فقہ کی درس نظامی کے تحت تعلیم ہوتی ہے، طلبہ مستطیع و غیر مستطیع دونوں قسم کے پڑھتے ہیں۔ غریب طلبہ کو کھانا، نقد وظیفہ، کپڑا وغیرہ دیا جاتا ہے۔ مدرسہ سے متعلق کچھ وقف جائداد بھی ہے۔ زیادہ تر ضروریات چندہ سے پوری ہوتی ہیں جس کے لئے تنخواہدار سفیر مقرر ہیں، مگر سفیر پوری محنت نہیں کرتے جس کی وجہ سے آمدنی کم ہوتی ہے ایک صاحب نے مشورہ دیا ہے کہ چندہ وصول کرنے کے لئے کمیشن کا معاملہ کر لیا جائے یعنی جتنا روپیہ جو سفیر وصول کر کے لائے اس کا نصف اس کو اجرت میں دیا…

جواب

یہ مسئلہ کتاب الاجارة کا ہے۔ اجارہ کی تعریف یہ ہے ہی تملیک نفع مقصود من العين بعوض اھ در مختار ص ۲ ج ۵۔ یہ ایک حیثیت سے بیع بھی ہے اسمیں منفعت بمنزلہ مبیع کے ہے اور اجرت بمنزلہ ثمن کے ہے۔ جس چیز کا بیع میں ثمن قرار دینا درست ہے اسکا اجارہ میں اجرت قرار دینا درست ہے۔ جس طرح بیع و ثمن کا معلوم ہونا ضروری ہے اسی طرح اجارہ میں منفعت واجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو