عید گاہ کی زمین ندی میں بہہ کر پھر مل گئی
سوال
زید کی زمینداری کے وقت زید کے مورث اعلیٰ نے جو تقریباً پچاس سال سے زائد ہی ہوئے کہ ایک عید گاہ بنوائی تھی، موجودہ حکومت نے زمینداری لے لی اور حال سروے جو لگ بھگ تیس سال ہوئے کہ عید گاہ والا قطعہ بہار سرکار کے کھاتے اندراج پایا، ان زمینوں میں سے جس قطعہ پر عید گاہ واقع تھی وہ ندی میں بہہ گیا، ایک طویل مدت تک وہ ندی کی شکل میں رہا، اب وہ زمین ندی سے باہر نکل چکی ہے، لیکن عید گاہ کی کوئی علامت اور نشانی باقی نہیں ہے، زید نے مذکور فی السوال بہار سرکار سے اور زمینوں کے ساتھ ایک قطعہ کو جس پر کبھی عیدگاہ تھی اپنی نا…
جواب
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ جو قطعہ زمین زید نے سلامی دیکر حاصل کی ہے، یہ وہی قطعہ ہے جس پر عیدگاہ تھی یعنی وقف ہے تو زید کا اسکو اپنے لئے آباد کرنا اسکی آمدنی حاصل کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس کی آمدنی جو حاصل کر چکا ہے اس عید گاہ کو دیدے جو دوسری جگہ بنائی جا چکی ہے، اور اس حاصل شدہ قطعہ پر اہل بستی کے مشورہ سے دوبارہ پھر عید گاہ بنائی جائے تا کہ واقف کی نیت پوری ہو، اور اگر متعین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔