نکاح میں شرکت کے لئے غیر مسلم کو مسجد میں بلانا
سوال
(۱) مسجد میں نکاح ہونے پر غیر قوم کو بھی شرکت کی دعوت دینا مسجد کے اندر ہی لا کر بٹھانا کیسا ہے؟ سوال: (۲) حوض کے پانی سے غیر قوم کو ہاتھ پیر دھونے کا حق ہے یا نہیں؟ سوال: (۳) مسجد کے اندر اور باہر نکاح کے وقت ہندو مسلمان مل کر بیٹھتے ہوں اس نکاح کی زیبائش کے لئے مسجد کے صحن میں پنڈال ڈالنا، کپڑوں سے نقش و نگار کر کے اس کو سجانا کیسا ہے؟ سوال: (۴) مسجد میں نکاح نہ ہونے پر گھر میں نکاح کرنے والوں کو نکاح کا رجسٹر نہ دینا، مسجد میں نکاح کرنے والوں کو ہی نکاح کا رجسٹر دینا، یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) نہیں چاہئے، (۲) نہیں، (۳) نہیں چاہئے البتہ سادہ طریقہ پر مسجد میں نکاح کرنا درست ہے۔ (۴) نکاح کو درج رجسٹر کرنا شرعاً لازم نہیں، اگر ضرورت ہو تو مسجد میں سادہ طور پر نکاح کرا دیا جائے، اور پھر درج کرا دیا جائے، یا مکان پر نکاح کر کے رجسٹر میں لکھوا دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔