الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد میں بجلی کا پنکھا

سوال

(۱) مسجد میں بجلی کی روشنی و بجلی کا پنکھا نماز با جماعت کی حالت میں یا اوقات نماز میں پنکھے کا چلنا کیسا ہے، جب کہ نمازیوں ہی نے اپنے پاس سے بجلی وبجلی کا پنکھا مسجد میں لگوایا ہے، اور اس کا ماہواری خرچ بھی نمازی ہی اپنے پاس سے ادا کرتے ہیں، اور متولی یا مسجد کی آمدنی سے ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوتی، اور مسجد اور متولی کی آمدنی سے کچھ خرچ نہیں کیا جاتا ہے، ایسی حالت میں پنکھے کا چلنا نا جائز ہے یا مکروہ تحریمی یا مکروہ تنزیہی یا نماز میں اس سے کچھ فساد آتا ہے؟

جواب

گرمی کے وقت نمازیوں کی راحت واطمینان کے لئے بجلی کا پنکھا مسجد میں چلنے کی وجہ سے نماز میں کوئی خلل نہیں آئیگا، بلاتردد نماز درست ہوگی، اور ایسی منفعت وراحت کا انتظام کرنا شرعاً ممنوع نہیں بجلی کی روشنی سے بھی نماز میں خرابی نہیں آتی، زمانہ سلف میں یہ دونوں چیزیں موجود نہیں تھیں، مگر چراغ کی روشنی کا عام دستور تھا حتی کہ زیادہ تاریکی میں کہ سمت قبلہ کا صحیح پتہ نہ چل سکے فقہا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو