مسجد میں چہل قدمی
سوال
وظیفہ پڑھنے والے بعد نماز فجر وعصر اندرون مسجد میں ٹہل ٹہل کر اپنا وظیفہ پڑھتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے؟ بعض عالم بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ اکثر بعد نماز عصر چہل قدمی فرمایا کرتے تھے، اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب کا اس زمین پر چہل قدمی کرنا پسند نہ فرمایا اس لئے جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری عطا فرمائی کہ اس پر میرا محبوب چلے جیسا کہ صحاح ستہ میں ہے کہ مسجد و منبر کے درمیان جو حصہ ہے، وہ اصلی جنت کی کیاریوں میں سے ایک ہے؟
جواب
ٹہلنا وظیفہ کا جز نہیں، افضل و بہتر یہ ہے کہ ایک جگہ تنہائی میں بیٹھ کر یکسوئی سے وظیفہ پڑھا جائے، اگر جماعت کا وقت قریب ہو اور نیند کا اثر ہو جس سے یہ خیال ہو کہ ایک جگہ بیٹھ کر انتظار کرنے سے نیند آجائیگی، یا اسی قسم کی کوئی اور ضرورت ہو تو مسجد میں ٹہلنے میں مضائقہ نہیں لیکن مستقلاً ٹہلنے کیلئے مسجد کو تجویز کرنا بعد فجر یا بعد عصر یا کسی اور وقت مسجد کی غایت اور وضع کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔