شاہی مسجد کو تفریح گاہ بنانا
سوال
شہر برہان پور میں شاہی زمانہ کی بنی ہوئی مسجد ہے جو فن تعمیر میں نرالی ہے مگر افسوس یہ ہے کہ وہ مسجد تفریح گاہ بن گئی ہے، ہندومسلم، مردوزن، وقت بے وقت مسجد میں گھومتے رہتے ہیں، اور مؤذن ان کو مسجد میں گھما کر رہبری کی قیمت وصول کرتا ہے، تو کیا مسجد کو تفریح گاہ بنانا اور مرد و زن کا بے خطر اس میں داخل ہونا از روئے شرع کیسا ہے؟
جواب
یہ صورت حال مسجد کے منشاء و احترام کے سخت خلاف ہے فان المساجد لم تبن لهذا، مشکوة شریف ص ۶۸۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔