الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان کے وقت مسجد میں بات کرنا

سوال

دو حدیثوں کا مفہوم کہ اذان کے وقت بات کرنے سے ایمان سے جاتے رہنے کا خوف ہے، اور مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے سے ۴۰ ر برس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ اکثر بازاروں میں یا نماز کیلئے آتے وقت یا بوقت اذان لین دین یا باتیں کرتے ہیں، اگر کوئی شخص خاموش رہے تو شدید تکلیف ہوگی، ایسے مواقع پر کیا کیا جائے؟

جواب

اذان کے وقت باتیں کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف کس حدیث میں ہے، مجھے وہ حدیث محفوظ نہیں، آپ لکھیں تو اس کو دیکھا جائے،مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے کیلئے بیٹھنا منع ہے، اگر نماز کے لئے مسجد میں جائے اور وہاں کوئی اتفاقیہ تجارت و ملازمت وغیرہ کی باتیں بھی کسی سے کرلے تو یہ اس حکم میں نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو