الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بازار میں واقع مسجد میں لوگوں کی آمد ورفت کی وجہ سے بے حرمتی کا اندیشہ

سوال

ایک مسجد جو کہ بازار میں واقع ہے اور بازار کے لوگ مسجد کے نل سے پانی بھرتے ہیں، تو یہ درست ہے یا نہیں؟ نیز لوگ مسجد کے غسل خانوں میں آکر گندگی بھی کر جاتے ہیں، نیز دیہاتی عورتیں مسجد میں آکر بیٹھتی ہیں، اور کھانا وغیرہ کھاتی ہیں، جس سے مسجد میں چھپکلی اور دوسرے کیڑے مکوڑے آتے ہیں، اور بھی بہت سی بے حرمتی ہوتی ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا کہ غسل خانہ میں لوگ بھنگ بھی پیتے ہیں، تو اس صورت میں مسجد غیر اوقات نماز میں بند کر دی جائے یا بند نہ کی جائے؟

جواب

اگر چہ اوقات نماز کے علاوہ مسجد کو بند کر دینا بھی درست ہے مگر مناسب نہیں کہ لوگوں کو پانی کی تکلیف ہوگی جو کام مسجد میں غلط کئے جائیں، ان سے روکنے کے لئے مسجد کے مؤذن کو تنبیہ کر دے یا اعلان لکھ کر لگا دیا جائے، جب بار بار ان کو منع کیا جائے گا تو توقع ہے کہ مان لیں گے، نیز اوقات نماز میں جب وہ مسجد میں آئیں تو ان سے درخواست کی جائے کہ وہ نماز ادا کریں محض بطور مسافر خانہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو