تعلیم دینے کے لئے عورتوں کا مسجد میں کو آنا جانا
سوال
بھوپال کی ایک مسجد بنام موتی مسجد مشہور ہے، تقریباً جامع مسجد دہلی کا نقشہ ہے، اس کے تینوں طرف دالان ہے، مشرقی دالان میں چند سالوں سے ایک مدرسہ چل رہا ہے، جس میں عربی، فارسی، اردو، ہندی، انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے، اور تو، اور تعلیم حاصل کرنے والی نابالغ لڑکیاں ہیں، اور ان کو پڑھانے والی بھی تقریباً جوان عورتیں ہیں، جن کا داخلہ مسجد میں آنا جانا ہر حالت میں ہوتا ہے، کیا یہ شرعاً صحیح ہے؟
جواب
ناپاکی کی حالت میں مسجد سے ہو کر گزرنا درست نہیں ” ولا تدخل المسجد وكذا الجنب لقوله عليه الصلوة والسلام فانى لا احل المسجد لحائض ولا جنب “الخ ہدایہ اولین، ص ۶۳/ اس لئے ضروری ہے کہ مسجد سے الگ جانے آنے کیلئے راستہ بنایا جائے تاکہ مسجد کی بے حرمتی نہ ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔