الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کیلئے پتھر خریدے اور ایک پتھر بطور یادگار دے دیا

سوال

ایک بستی کے اندر اہل بستی نے تین آدمیوں کو مسجد کے لئے پتھر کی فرشی لینے کے لئے ایک دوسرے شہر میں بھیجا، یہ لوگ وہاں گئے اور انہوں نے مسجد کے لئے مذکورہ چیزیں خرید لیں، پیسہ وغیرہ دینے کے بعد اور سامان کو لادتے وقت ان میں سے ایک شخص نے دکاندار سے کہا کہ ایک پتھر مجھے بھی دیدیجئے، دوکاندار نے کہا کہ کیا اپنی ذاتی ضرورت کے لئے لے رہے ہو؟

جواب

اس تفصیل کے تحت یہ پتھر هدايا العمال میں داخل نہیں، اس لئے کہ اول تو انہوں نے یہ پتھر صدقہ و چندہ میں وصول نہیں کئے، بلکہ خریدے ہیں، بخلاف ابن لبید کے کہ یہاں خریداری کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ صدقات واجبہ کی وصولیابی تھی بیت المال کے لئے جس میں بے جا رعایت اور فرو گذاشت کا مظنہ تھا، یہاں خریداری ہے، بائع نے خود تصریح کردی ہے، کہ مسجد کی خاطر کم قیمت لی ہے، نہ کہ ایک پتھر دیکر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو