الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کمرہ مسجد میں مدرسہ ہے اس کا کرایہ مسجد کو

سوال

(۱) ہمارے محلہ کی مسجد میں ایک کمرہ ایسا ہے جس میں عرصہ دراز سے پیش امام رہتا تھا، اور اس میں بچوں کو دینی تعلیم دیتا تھا، ایک موقع پر جب کوئی پیش امام نہیں تھا، زید نے مسجد مذکور کے متولی عمر کے کہنے سے کسی تنخواہ کا معاملہ کئے بغیر امامت شروع کر دی، اور اس کمرہ میں خود رہنے کے بجائے ایک مولوی صاحب کو بچوں کی تعلیم کیلئے مقرر کر دیا، بچوں سے کوئی فیس نہیں رکھی گئی، مولوی صاحب کی تنخواہ آٹے کی چٹکی اور چندہ سے اہل محلہ کی طرف سے دی جاتی رہی، متولی عمر نے اس کمرہ کا راستہ بیرون مسجد کر دیا، اور کہا کہ اب اس کمرہ کو…

جواب

تنخواہ کا معاملہ نہیں ہوا تھا، لہذا زید کو تنخواہ کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے خاص کر جبکہ وہاں تنخواہ دار امام کے بغیر ہی نماز و جماعت ہو رہی تھی۔ (۲) عمر کو مسجد سے زید کی گذشتہ امامت کی تنخواہ دینے کا اختیار نہیں، وہ کمرہ اگر امام کے رہنے اور تعلیم دینے کے لئے بنایا گیا تھا، تو اس کو کرایہ پر دینا اور اس کا کرایہ وصول کرنا درست نہیں ہے اگر کرایہ کیلئے بنایا گیا تھا، تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو