اوقاف مساجد کے مصارف
سوال
اوقاف مساجد کے مصارف کیا کیا ہیں، وقف واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، منذور علی اللہ کی دو صورتیں ہیں، ایک مشروط اور ایک غیر مشروط مثلاً واقف نے دس روپے نقد جائے نماز کی خرید کو دیئے ایسا وقف جائے نماز خرید کر ہی ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے دس روپے غیر مشروط مسجد کو دیئے اس وقف کو کارکنان مسجد متعلقات مسجد میں کہیں بھی خرچ کر سکتے ہیں، یا نہیں نیز کیا ایسے نقد کو امام وغیرہ کی تنخواہ میں دینا جائز ہے، یا نہیں؟ جب کہ یہ اجرت ادائے گی فرض میں شامل ہے؟
جواب
اگر کسی نے مصالح مسجد کے لئے وقف کیا ہے تو امام خطیب، قیم، روشنی، چٹائی وغیرہ یہ اس کے مصارف ہیں ”لو وقف على المصالح للامام والخطيب والقيم وشراء الدهن والحصيرات الاشباه والنظائر مع الحموى ص ۲۷۱ / “” وقف امام ابو حنیفہ کے نزدیک ملک واقف میں رہتا ہے، مگر اس کی منفعت کا تصدق لازم ہوتا ہے، اور صاحبین کے نزدیک ملک واقف سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملک میں ہو جاتا ہے، اور اسکی منفعت کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔