الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی آمدنی سے تنخواہ میں تقلیل اور اسکول میں خرچ

سوال

مساجد کے اماموں کی تنخواہ ۵۰/۶۰/۷۰ روپے ماہانہ دیجاتی ہے، جو بہت ہی قلیل ہے، حالانکہ آمدنی بہت کافی ہے، لیکن اس آمدنی کو مسجد کے لئے اور اماموں کی تنخواہ میں اضافہ کرنے کے بجائے اسکول میں دنیوی تعلیم کیلئے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے، اور دنیوی تعلیم بھی بہت ناقص ہے، تو مساجد کی اسی فیصد آمدنی اسکول میں دنیوی تعلیم پر خرچ کرنا جائز ہے، دینی تعلیم نہیں دی جاتی ہے؟

جواب

جب ایک مسجد کی آمدنی دوسری مسجد میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں، تو پھر مسجد کی آمدنی اسکول میں خرچ کرنا کیسے جائز ہوگا، جو لوگ خرچ کرتے ہیں، وہ گنہگار ہیں، ان کے ذمہ ضمان لازم ہے، ایسے لوگوں کو اوقاف کا منتظم بنانا بھی درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو