الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا چندہ عمومی کام میں خرچ کرنا

سوال

چند حضرات نے مسجد کے لئے روپیہ جمع کیا تھا لیکن وہ روپیہ عمومی کام میں صرف کرنا چاہتے ہیں، اگر چہ با قاعدہ حساب مع رسیدوں کے موجود ہے،لیکن سب چندہ دہندگان کا موجود ہونا ان کے گھروں پر جا کر دریافت کرنا ایک امر مشکل ہے، ایسی حالت میں شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

جس طرح چندہ جمع کیا گیا ہے (ان کو جمع کر کے یا گھروں پر جا کر) اس طرح ان سے اجازت لے لی جائے، یا ان کا چندہ واپس کر دیا جائے، جب رسیدیں بھی موجود ہیں تو اس میں کیا مشکل ہے، یا اعلان کر دیا جائے، کہ اس چندے کو فلاں کام میں خرچ کیا جائے گا، جسکو نامنظور ہو وہ اپنا چندہ واپس لے لے، اور یہ اعلان اس طرح کیا جائے، کہ چندہ دهندگان تک بالواسطہ یا بلا واسطہ کسی نہ کسی طرح پہنچ جائے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو