مسجد کی فاضل رقم کا مصرف
سوال
مساجد کی لاکھوں روپیہ کی غیر سودی رقم جو بینک میں جمع ہے جس پر خوامخواہ سود چڑھتا رہتا ہے، اور حکومت اس میں سے لون لیا کرتی ہے، تو کیا ان مساجد کی وہ غیر سودی رقم جبکہ ان مساجد کی حالیہ ضروریات نیز مستقبل کی متوقع ضروریات سے بھی فاضل ہے، تو اس رقم کو مالی اعتبار سے نہایت کمزور، ضرورت مند مساجد کی تعمیر اور مرمت میں اس رقم کا کچھ حصہ استعمال کرنا یا مؤذن اور اماموں کی تنخواہوں میں دینا یا مکاتب و مدارس دینیہ کی امداد یا جدید مکاتب دینیہ قائم کرنا یا غریب بچوں کو وظیفہ دینا، یہ روپیہ ان مذکورہ مدوں میں صرف ہو سکتا…
جواب
ہر مسجد کی رقم اصالۃً اسی مسجد میں صرف کی جائے، اگر اس مسجد میں ضرورت نہ ہو اور آئندہ بھی ضرورت متوقع نہ ہو یا رقم کی حفاظت دشوار ہو اور ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر قریب کی مسجد میں اس کے بعد بعید کی مسجد میں حسب ضرورت و مصالح مسجد کی تعمیر، صرفہ پانی، روشنی، تنخواه امام و مؤذن میں صرف کرنا درست ہے، جب تک یہ مصارف موجود ہوں تو مسجد کے علاوہ دیگر مواقع مثلاً مدارس مکاتب کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔