متعلقین مسجد کو انعام
سوال
زید ایک مسجد میں قرآن کا ترجمہ بیان کرتا ہے، اور مقررہ امام کی عدم موجودگی میں نماز پڑھاتا ہے، اہل مسجد رمضان المبارک میں جب کہ قاری اور سامع کو بعد ختم قرآن انعام دیتے ہیں، اس موقع پر زید کو بھی کچھ رقم دیتے ہیں تو زید کو اس رقم کا لینا درست ہے یا نہیں، اگر وہ رقم بطور چندہ کے لوگ اپنے پاس جمع کر کے دیں تو کیسا ہے، یا انعام کے نام سے جمع کریں اور اگر مسجد کے فنڈ میں سے دیں، جس مسجد میں دوکان کی آمد اور بیاہ برات موقع پر ہونے والی آمد جمع ہو تو اس میں سے زید کو دینا اور اس کو لینا کیسا ہے؟
جواب
متعلقین مسجد جو کہ سال بھی خدمت کرتے ہیں ان کو تنخواہ کے علاوہ رمضان المبارک میں اہل مسجد زیادہ دیتے ہیں اس میں مضائقہ نہیں درست ہے، چاہے وقف مسجد کی آمدنی سے دیں، یا چندہ کر کے لے جب کہ چندہ کرنے میں جبر نہ ہو، تقریبات کے موقع پر جو کچھ آمدنی ہوتی ہے اس آمدنی سے بھی دینا درست ہے، محض قرآن کریم سنانے کی اجرت دینا درست نہیں انعام کے نام سے دی جائے یا کسی اور نام سے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔