زیادہ آمدنی کی توقع پر مسجد کی زمین فروخت کرنا
سوال
مسجد کے مصارف کے لئے موقوفہ زمین فروخت کرنا اور اس کی قیمت سے مسجد ہی کے مصارف کے لئے دوسری جگہ مکان یا دوکان وغیرہ بنوانا جس میں مذکورہ فروخت شدہ زمین کی آمدنی سے زیادہ آمدنی متوقع ہو جائز ہے کہ نہیں؟ نیز مذکورہ فروخت شدہ زمین میں بنائے ہوئے مکان یا اسکول وغیرہ میں اگر کبھی کسی زمانہ میں بھی کسی نے کوئی غیر اسلامی حرکت کی ہو تو موجودہ منتظمین اور فروخت کرنے والے پر مواخذہ ہوگا یا نہیں؟
جواب
جو زمین مسجد کے مصارف کے لئے وقف ہو چکی ہے اس کی بیع نا جائز ہے، اسکی اجازت نہیں کہ اس کو فروخت کر کے اس سے زیادہ آمدنی کی زمین خریدی جائے۔ ” فاذاتم (ای الوقف ولزم لا یملک ولا یملک اى لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تملیک الخارج عن ملك شامی ص ۵۰۷ ج ۳ البتہ اگر مسجد کی زمین پر غاصبانہ قبضہ ہو جائے اور اس کی واگزاری کرانا ممکن نہ ہو تو مجبوراً معاوضہ لے کر دوسری زمین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔