غیر آباد مسجد کو فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا
سوال
صوبہ جموں کشمیر کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کی مسجدیں غیر آباد ہیں اور وہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا، ان مسجدوں کی دیواریں گر گئیں، اور ملبوں کا ڈھیر بن چکی ہیں، اور مسجدوں کی اینٹیں، لکڑیاں اور تختے ضائع ہو رہے ہیں، یا غیر مسلم جو ان علاقوں میں رہتے ہیں اٹھا کر لے جاتے ہیں، کیا ایسی صورت میں مجلس اوقاف اسلامیہ جموں یہ کر سکتی ہے کہ گری ہوئی مسجدوں کی اینٹوں کو اور دوسرے سامانوں کو فروخت کر کے دوسری آباد مسجدوں میں یا عام مسلمانوں کی دوسری ضروریات میں ان رقموں کو لگائے؟ (۲)
جواب
اگر ان مسجدوں کے آباد کرنے کی کوئی صورت نہیں اور سامان ضائع ہو رہا ہے تو اس سامان کو دوسری مساجد میں لگایا جائے اور ان گری ہوئی مساجد کی چہار دیواری بنا کر اس طرح گھیر دیا جائے کہ ان کی حفاظت ہو جائے، اگر چہار دیواری بنانے کے لئے پیسہ نہ ہو تو اس گرے ہوئے ملبہ اینٹ وغیرہ سے بنادیں، یا اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے بنادیں اس کی قیمت کسی دوسرے کام میں صرف نہ کریں، بلکہ مساجد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔