الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر آباد مسجد کو فروخت کرنا

سوال

ہمارے یہاں مسلمانوں کے چلے جانے سے بہت سی مساجد ویران ہو گئی ہیں، عرض یہ ہے کہ گھر، پھونس، لکڑی، اس پلٹو وغیرہ سے بنائی ہوئی کچی مسجد کا گھر ہندو کے پاس فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ مسلمان خریدار نہیں، اور گھر پڑا رہنے میں اضاعت أموال اور قیمتی سامان چوری ہوتا ہے، بصورت جواز مسجد کے ایریا کی حفاظت کے لئے شرعی رائے کیا ہے؟

جواب

وقف کی بیع نا جائز ہے، وقف کا مالک کوئی نہیں، جو اس کو فروخت کر سکے، اگر مسلمان موجود نہیں رہے تو مسجد کو یا مسجد کے ذمہ دار کو فروخت کرنے کا پھر بھی اختیار نہیں ہے مسجد کی جگہ کو اگر محفوظ کر دیں تو بہتر ہے، مسجد کے وقف پر اگر غیر لوگ زبر دستی قبضہ کر کے اس کا معاوضہ دیں تو معاوضہ لیکر دوسری جگہ مسجد بنالینا درست ہے، غیر آباد مسجد کا سامان فروخت کرنے کے بجائے ایسی مسجد میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو